25 اگست 2013 - 19:30
امریکی جرائم

امریکی جریدے فارین پالیسی نے رپورٹ دی ہے کہ سی آئي اے کی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے عراق کے سابق خونخوار ڈکٹیٹر صدام کی بھرپور مدد کی تھی جس کے بعد صدام نے ایران اور حلبچہ پر کیمیاوی بمباری کی تھی۔

ابنا: اس امریکی جریدے نے لکھا ہے کہ امریکہ نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ صدام کے کیمیاوی حملے تاریخ میں سب سے گھناؤنے اور خطرناک کیمیاوی حملے ہیں صدام کی مدد کی تھی۔اس جریدے کے مطابق امریکی مدد کے بعد صدام نے باربار ایران کے خلاف کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکہ کی حکومت اور انٹلجنس اور فوج جو آج شام پر حملوں کے لئے پرتول رہی ہیں، انہوں نے صدام کے ہاتھوں نہایت ہی زہریلی گیسوں اور کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے باوجود کوئي قدم نہيں اٹھایا تھا۔صدام کی مسلط کردہ جنگ کے دوران بغداد میں امریکی سفارتخانے کے ایک افسر ریک فرانکونا نے فارن پالیسی کو بتایا کہ صدام نے ہرگز ہم سےیہ نہیں کہا تھا کہ وہ اعصاب کو متاثر کرنے والی کیمیاوی گيس استعمال کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسے معلوم تھا کہ واشنگٹن کو اس کی پہلے سے اطلاع ہے۔ اس امریکی جریدے نے لکھا ہے کہ سی آئی اے کے ڈی کلاسیفائد دستاویزات سے معلوم ہوتا ہےکہ انیس سو تراسی میں امریکہ کو اچھی طرح سے معلوم تھا کہ صدام نے کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہیں۔

.......

/169